برطانیہ کے معروف سیاستدان اور سابق رکن پارلیمنٹ جارج گیل وے نے ملک کی بڑھتی ہوئی جنگی تیاریوں اور روس کے خلاف جاری سخت بیانیے پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو عالمی امن کے لیے خطرناک قرار دیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے سفارتی حل تلاش کرے۔
گیل وے نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ کی حکومت غیر ضروری طور پر فوجی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہے اور ایسے اقدامات کر رہی ہے جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا اشارہ ممکنہ طور پر نیٹو کے مشرقی یورپ میں فوجی موجودگی میں اضافے اور یوکرین کو دی جانے والی فوجی امداد کی طرف تھا، جسے وہ روس کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کے مترادف سمجھتے ہیں۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے روس مخالف بیانیے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، یہ بیانیہ نہ صرف روس کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کر رہا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ مذاکراتی حل کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔ گیل وے کا موقف ہے کہ میڈیا اور حکومتی حلقوں کی جانب سے روس کے خلاف مسلسل منفی پروپیگنڈا عالمی سطح پر غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اور امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
جارج گیل وے طویل عرصے سے مغربی ممالک کی خارجہ پالیسیوں کے ناقد رہے ہیں اور وہ اکثر ایسے معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں جو مرکزی دھارے کے میڈیا سے مختلف ہوتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔




