جامعہ کراچی کے طلباء نے سندھ ہائی کورٹ (SHC) میں طلباء یونینز کی بحالی کے لیے ایک اہم درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ اقدام ملک بھر میں طلباء یونینز پر عائد پابندی کے خلاف ایک نئی قانونی جدوجہد کا آغاز ہے، جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں طلباء کی نمائندگی اور جمہوری عمل کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
پاکستان میں طلباء یونینز پر کئی دہائیوں سے پابندی عائد ہے، جس کے باعث تعلیمی اداروں میں طلباء کو اپنی آواز اٹھانے اور اپنے مسائل حل کرانے کے لیے کوئی باقاعدہ پلیٹ فارم میسر نہیں ہے۔ اس پابندی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ طلباء یونینز تعلیمی ماحول میں تشدد اور سیاسی مداخلت کا باعث بنتی ہیں، جبکہ اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یونینز طلباء کو قیادت کی صلاحیتیں سکھاتی ہیں اور انہیں جمہوری اقدار سے روشناس کراتی ہیں۔
دائر کی گئی درخواست میں جامعہ کراچی کے طلباء نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ طلباء یونینز پر عائد پابندی کو غیر آئینی قرار دے اور ان کی بحالی کا حکم جاری کرے۔ طلباء کا مؤقف ہے کہ یونینز کی عدم موجودگی میں طلباء کے حقوق پامال ہو رہے ہیں اور انہیں تعلیمی پالیسی سازی میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ اس درخواست کو طلباء برادری کی جانب سے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ ملک میں طلباء سیاست کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔



