سندھ کی سینئر وزیر فریال ٹالپر نے جامعہ کراچی کے ایک پروفیسر پر تشدد کے واقعے میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق، فریال ٹالپر نے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کریں اور ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلباء کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ایسے واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ ہمارے معاشرے کا اہم ستون ہیں اور ان کی عزت و وقار کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
فریال ٹالپر نے مزید کہا کہ جامعہ کراچی جیسے معتبر تعلیمی ادارے میں ایک پروفیسر پر تشدد کا واقعہ نہ صرف اساتذہ بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔

