ہمارے معاشرے میں لاپرواہی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی کوئی کمی نہیں، اور سوشل میڈیا نے اسے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا پلیٹ فارم فراہم کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ پلیٹ فارمز معلومات اور تفریح کا ذریعہ ہیں، وہیں دوسری طرف یہ خطرناک رجحانات کو بھی فروغ دے رہے ہیں، جہاں محض چند ‘لائکس’ اور ‘ویوز’ کی خاطر لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
اس کی تازہ ترین مثال اس ہفتے ناران میں دریائے کنہار کے کنارے سے سامنے آئی، جہاں ایک ٹک ٹاک اسٹنٹ تقریباً ایک بڑے حادثے میں بدل گیا اور کئی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔ اس واقعے میں ایک شخص دریائے کنہار کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا اور بڑی مشکل سے بچایا جا سکا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس حد تک اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہیں، صرف اس لیے کہ ہم سوشل میڈیا پر وائرل ہو سکیں۔
یہ افسوسناک رجحان صرف ایک واقعہ تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل چکا ہے جہاں نوجوان محض چند ‘لائکس’ اور ‘ویوز’ کی خاطر اپنی اور دوسروں کی جانوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی یہ خواہش اب ایک خطرناک جنون کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے نتائج اکثر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ کیا واقعی چند لمحوں کی شہرت انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ اس رجحان کو روکنے کے لیے نہ صرف انفرادی سطح پر شعور بیداری کی ضرورت ہے بلکہ حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جو اس قسم کے خطرناک رویوں کی حوصلہ شکنی کریں۔


