جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ملک کے سیاسی و سماجی منظرنامے کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ حکومت بظاہر ان قوتوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس سے مستقبل میں مزید سنگین حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف جرمنی کے اندرونی استحکام بلکہ اس کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
حالیہ عرصے میں جرمنی میں دائیں بازو کی جماعتوں اور گروہوں کی عوامی حمایت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو مہاجرین مخالف جذبات، قوم پرستی اور بعض صورتوں میں جمہوری اقدار کے خلاف بیانات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ، خاص طور پر سوشل میڈیا اور عوامی مظاہروں میں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے نظریات معاشرے کے ایک بڑے حصے میں جڑیں پکڑ رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ان رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن ماہرین اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کوششیں کافی نہیں ہیں اور انتہا پسندانہ نظریات معاشرے میں گہری جڑیں پکڑ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دائیں بازو کی انتہا پسندی کو مؤثر طریقے سے نہ روکا گیا تو یہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے اور معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ جرمنی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، دائیں بازو کی انتہا پسندی کا دوبارہ سر اٹھانا عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ یہ ایک ایسا الارمنگ سگنل ہے جس پر فوری اور جامع توجہ کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔

