جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ‘آلٹرنیٹو فار جرمنی’ (AfD) مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں آئندہ انتخابات میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ جماعت طویل عرصے سے جرمن سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس بار اسے ایک اہم کامیابی کی امید ہے۔
اگر AfD سیکسنی انہالٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمنی کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب کسی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے ریاستی سطح پر اقتدار سنبھالا ہوگا۔ یہ پیش رفت نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ کی سیاست کے لیے بھی گہرے اثرات کی حامل ہوگی، جہاں قوم پرستی اور دائیں بازو کی سیاست کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
AfD کا عروج، خاص طور پر سابق مشرقی جرمنی کی ریاستوں میں، جرمنی کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس جماعت کی پالیسیاں، جو اکثر تارکین وطن مخالف اور یورپی یونین کے بارے میں شکوک و شبہات پر مبنی ہوتی ہیں، ملک کے روایتی سیاسی ڈھانچے کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہیں۔ اس انتخاب پر عالمی برادری کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ آیا جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو ریاستی سطح پر قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

