اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے جسٹس بابر ستار کو ان کی سرکاری رہائش گاہ 30 روز کے اندر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق، یہ نوٹس جسٹس بابر ستار کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ مقررہ مدت میں سرکاری رہائش گاہ خالی کر دیں۔
عدالتی حلقوں میں اس نوٹس کے اجراء کو ایک معمول کی انتظامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی ٹائمنگ پر بعض حلقوں میں بحث بھی جاری ہے۔ عام طور پر ججز کو ان کی تعیناتی کے دوران سرکاری رہائش گاہیں فراہم کی جاتی ہیں اور انتظامی وجوہات کی بنا پر ان کی تبدیلی یا خالی کرانے کے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔
جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک سینئر جج ہیں اور ان کے حوالے سے یہ نوٹس ایک اہم عدالتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ جسٹس بابر ستار اس نوٹس پر عمل درآمد کرتے ہوئے مقررہ وقت میں رہائش گاہ خالی کر دیں گے۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر صورتحال مزید واضح ہو گی۔







