اسلام آباد: وفاقی حکومت کے بجٹ 2026-27 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرنے کے فیصلے کے بعد جولائی 2026 سے بڑی انجن والی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ اس اضافے سے ٹویوٹا فارچیونر اور ٹویوٹا ریوو جیسے مقبول ماڈلز بھی متاثر ہوں گے، جو 2000 سی سی اور اس سے زائد انجن کی گنجائش رکھتے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے 2000 سی سی اور اس سے زائد انجن کی حامل گاڑیوں پر نئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومتی ریونیو میں اضافہ کرنا اور ممکنہ طور پر درآمدات کو کنٹرول کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں گاڑیوں کی درآمد اور مقامی پیداوار دونوں پر لاگو ہوگا۔
گاڑیوں کی قیمتوں میں یہ متوقع اضافہ ان صارفین کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے جو لگژری اور بڑی ایس یو ویز خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے آٹو مارکیٹ میں 2000 سی سی سے زائد انجن والی گاڑیوں کی فروخت پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ چھوٹی اور درمیانی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ اقدام ملک کی معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
