اسلام آباد: حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہلِ خانہ نے پولیس کی تفتیش پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں تاکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کو یقینی بنایا جا سکے۔
حنا جاوید کے بھائی نے اس سلسلے میں چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سے ملاقات کی اور انہیں اپنی بہن کے قتل کیس کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس تفتیش میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور بعض اہم شواہد کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اہلخانہ کے مطابق، انہیں پولیس کی جانب سے مکمل تعاون حاصل نہیں ہو رہا اور وہ تفتیش کے طریقہ کار سے شدید عدم اطمینان کا شکار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں انصاف ملنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔
مقتولہ کے بھائی نے مطالبہ کیا کہ کیس کی تفتیش کو از سر نو شروع کیا جائے اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے کی نگرانی کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ کی جائے اور اصل مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اہلخانہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے اور انہیں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ ملک گیر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
