ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے پیش نظر، بحیرہ احمر کے قریب واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ پر حوثیوں کے حملے عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ صورتحال دنیا بھر کی تجارت، توانائی کی فراہمی اور سپلائی چینز کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے، دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار کی نقل و حمل کا راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بحیرہ احمر کی گزرگاہ، خاص طور پر باب المندب، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندری تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ حوثیوں کے اس علاقے میں حملے نہ صرف جہاز رانی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ عالمی سپلائی چینز اور تیل کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر ڈال رہے ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
اس صورتحال میں حوثیوں کی صلاحیتوں اور ان کے حملوں کے ممکنہ نتائج کو کم سمجھنا عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان حملوں کا طویل مدتی اثر عالمی منڈیوں پر نمایاں ہو سکتا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، عالمی برادری کو اس ابھرتے ہوئے خطرے سے نمٹنے اور سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


