حکومت پاکستان نے پٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ماہانہ بنیادوں پر نظرثانی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ پندرہ روزہ نظام ہی برقرار رہے گا، جو بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ہے۔
اوگرا کے حکام نے بتایا کہ پندرہ روزہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو فوری طور پر صارفین تک منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے انہیں قیمتوں میں کمی کا بروقت فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں کا تعین صارفین کو زیادہ قیمتوں پر طویل عرصے تک تیل خریدنے پر مجبور کر سکتا ہے اگر عالمی قیمتیں گر جائیں، اور اس کے برعکس ڈیلرز کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو۔ یہ نظام صارفین اور صنعت دونوں کے لیے شفافیت اور استحکام کو یقینی بناتا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے اپنے مطالبے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ماہانہ قیمتوں کا تعین ان کے کاروباری اخراجات کو کم کرنے، انوینٹری کے بہتر انتظام اور آپریشنل استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آپریٹنگ لاگت کے باعث ان کے منافع کے مارجن پر دباؤ ہے۔ تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ ڈیلرز کے لیے موجودہ منافع کے مارجن کو مناسب سمجھا جاتا ہے اور اس میں فی الحال کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔



