حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 66 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم اس کی تفصیلی شرح ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک پہلے ہی بلند افراط زر اور شدید معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی اس اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ عالمی قیمتوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کرنے پر مجبور ہے تاکہ سبسڈی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور مالیاتی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہ راست عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے سے نہ صرف سفری لاگت بڑھتی ہے بلکہ اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس تازہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔







