اسلام آباد: حکومت نے 200 ڈالر (تقریباً 55,000 پاکستانی روپے) تک کی مالیت کے درآمد شدہ موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے شدید تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ تجویز ایک ایسے وقت میں زیر بحث آئی ہے جب کئی قانون سازوں نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ کو ‘عوام دشمن’ قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے موبائل فونز کی خریداری کو مشکل بنا رہا ہے، جو ڈیجیٹل رسائی اور معاشی ترقی کے لیے ایک اہم رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں سستے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز عوام پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
اس تجویز کا مقصد سستے موبائل فونز کو عام آدمی کی پہنچ میں لانا ہے تاکہ ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیا جا سکے اور آن لائن خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو 200 ڈالر سے کم مالیت کے موبائل فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس سے صارفین کو فائدہ ہوگا۔ تاہم، حکومتی سطح پر اس تجویز پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اور بجٹ کی منظوری کے عمل کے دوران اس پر مزید بحث متوقع ہے۔
