ایک معروف تجزیہ کار روزنبرگ نے حال ہی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یوکرین میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں فوری طور پر کوئی مثبت نتیجہ لاتی نظر نہیں آتیں۔ ان کے مطابق، روس کے صدر ولادیمیر پوتن اس وقت جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی قسم کے دباؤ میں محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال یوکرین میں جاری تنازعے کے فوری حل کی امیدوں کو مزید دھندلا رہی ہے۔
روزنبرگ کے تجزیے کے مطابق، پوتن کی یہ خود اعتمادی ممکنہ طور پر روس کی فوجی پیش قدمی اور یوکرین میں حاصل کردہ علاقوں کی وجہ سے ہے، جس سے انہیں یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ جنگ کو اپنی شرائط پر جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماسکو اپنے جنگی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے بین الاقوامی دباؤ یا مذاکرات کے ذریعے فوری طور پر روکا نہیں جا سکتا۔ امریکی سفارت کاری کا مقصد اگرچہ تنازعے کو حل کرنا ہے، لیکن پوتن کی موجودہ پوزیشن اس بات کو واضح کرتی ہے کہ وہ اپنی شرائط پر ہی جنگ بندی یا امن معاہدے پر غور کریں گے۔
اس تجزیے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یوکرین میں امن کا راستہ طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، اور فوری حل کی امیدیں کم ہیں۔ امریکی سفارتی کوششوں کو شاید طویل مدتی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ مذاکراتی حل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ فی الحال، ایسا لگتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ پوتن کی مرضی اور ان کے فوجی اہداف کے حصول پر منحصر ہے۔


