روس نے یوکرین کو ایک ہفتے تک دھمکیاں دینے کے بعد اس کے دارالحکومت کیف پر مہلک حملے شروع کر دیے ہیں۔ ان حملوں کا آغاز ماسکو کی جانب سے بڑے حملے کی بار بار کی جانے والی تنبیہات کے بعد ہوا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو کی جانب سے بڑے حملے کی بار بار کی جانے والی تنبیہات اور پھر حملے میں تاخیر کا مقصد یوکرین کے دارالحکومت پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا تھا۔ اس حکمت عملی کے تحت کیف کے شہریوں کو مسلسل خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا گیا، جس سے ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔
ان مہلک حملوں نے کیف میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور شہری دفاعی پناہ گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے روس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔




