روس پر یوکرین کے ہزاروں ڈرون حملے، برطانیہ کو سنگین نتائج کی دھمکی

گزشتہ تین دنوں کے دوران یوکرین نے روس کے مختلف علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان حملوں نے روس کے دفاعی نظام کو چیلنج کیا ہے اور سرحد پار کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین کی جانب سے یہ حملے روس کے اندرونی علاقوں، فوجی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں ایک نئی شدت پیدا ہو گئی ہے۔

ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر، روس نے برطانیہ کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ڈرونز کی فراہمی سے باز رہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرین کو ڈرونز کی مسلسل فراہمی خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گی اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ روس نے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، جو بین الاقوامی تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

روس کا یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے پر حملوں میں شدت لا رہے ہیں۔ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فوجی امداد کی فراہمی پر روس پہلے بھی کئی بار اعتراض کر چکا ہے، تاہم برطانیہ کو براہ راست ڈرونز کی فراہمی پر یہ تازہ ترین اور سخت ترین انتباہ ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جس کے عالمی امن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • Related Posts

    میلانیہ ٹرمپ کے اعلان کردہ نایاب انخلا کا یوکرینی شہر اولیشکی میں آغاز

    یوکرین کے شہر اولیشکی میں، جہاں مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری ہے، وہاں موجود شہریوں کی ایک بڑی تعداد خوراک کی شدید قلت کا شکار ہو چکی ہے۔ جنگی صورتحال…

    کرسٹا پائیک: ناکام پھانسی کے بعد شدید درد اور تنہائی کا انکشاف

    1995 کے ایک قتل کے جرم میں سزا یافتہ کرسٹا پائیک نے گزشتہ ماہ اپنی پھانسی کی ناکام کوشش کے بعد اپنا پہلا بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔