یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کے حالیہ مہلک میزائل حملے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب ملک روسی بمباری کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی کا شکار ہے۔ یہ حملہ یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں ایک سنگین کمزوری کو نمایاں کرتا ہے، جس سے شہریوں کی حفاظت پر گہرے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یوکرین کے حکام طویل عرصے سے مغربی اتحادیوں سے جدید فضائی دفاعی نظام اور ان کے لیے درکار گولہ بارود کی فراہمی میں تیزی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، امداد میں تاخیر اور جنگ کی طوالت نے یوکرین کے دفاعی ذخائر کو خطرناک حد تک کم کر دیا ہے۔ انٹرسیپٹر میزائلوں کی یہ کمی روس کو یوکرین کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ آزادی فراہم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس حملے نے یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کی نازک صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین کو فوری طور پر مزید فضائی دفاعی امداد فراہم نہ کی گئی تو روس کی جانب سے ایسے مہلک حملوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کیف پر ہونے والا یہ حملہ نہ صرف جانی نقصان کا باعث بنا ہے بلکہ اس نے یوکرین کے شہریوں میں خوف و ہراس بھی پھیلا دیا ہے، جو اپنے ملک کے دفاع کے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے مزید ٹھوس اقدامات کے منتظر ہیں۔






