یوکرین کے خلاف روس کے مہلک حملے، جو اس کی اہم بندرگاہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ایک طویل عرصے سے جاری سمندری جنگ کا حصہ ہیں۔ یہ حملے نہ صرف یوکرین کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اناج کی فراہمی کے نظام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں دیگر اہم شپنگ راستوں پر ہونے والی لڑائیوں اور تنازعات کی بازگشت ہے۔
یوکرین دنیا کے بڑے اناج برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، خاص طور پر گندم، مکئی اور سورج مکھی کے تیل کا۔ روسی ناکہ بندی کے باعث یوکرین کی بندرگاہوں سے اناج کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں غذائی اجناس کی قلت اور قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس تعطل کا اثر ان ممالک پر سب سے زیادہ پڑے گا جو یوکرین کے اناج پر اپنی خوراک کی ضروریات کے لیے بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی غذائی تحفظ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کے لیے جہاں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ عالمی برادری اس مسئلے کے حل کے لیے روس پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ ایک بڑے انسانی بحران سے بچا جا سکے اور عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔






