بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا دو جہتی (2D) نقشہ جاری کر دیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت فلکیات کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے اور کائنات کے اسرار کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس وسیع نقشے میں آسمان کا تقریباً 75 فیصد حصہ شامل ہے، جسے مرئی اور قریب انفراریڈ روشنی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
یہ نیا نقشہ کائنات میں کہکشاؤں، کوازارز اور دیگر اجرام فلکی کی تقسیم کو ایک بے مثال تفصیل سے پیش کرتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نقشہ کائنات کی ساخت، اس کی ارتقائی تاریخ اور تاریک مادے (Dark Matter) اور تاریک توانائی (Dark Energy) جیسے پراسرار اجزاء کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس سے کائنات کی وسعت اور اس کے پھیلاؤ کے بارے میں ہماری موجودہ معلومات میں مزید اضافہ ہوگا۔
اس نقشے کی تیاری میں جدید ترین ٹیلی سکوپس اور ڈیٹا تجزیہ کی تکنیکوں کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے فلکیات دانوں کو کائنات کے دور دراز حصوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نقشہ آئندہ کئی دہائیوں تک فلکیاتی تحقیق کے لیے ایک بنیادی حوالہ ثابت ہوگا اور کائنات کے بارے میں نئے انکشافات کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ نہ صرف سائنسدانوں کے لیے بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی کائنات کی عظمت اور پیچیدگی کو سمجھنے کا ایک نیا ذریعہ ہے۔


