گزشتہ ماہ نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ترکی سے خفیہ طور پر انخلا کیا، جس کے لیے انہیں ایک فوجی جیٹ کا استعمال کرنا پڑا۔ یہ غیر معمولی اقدام مبینہ دھمکیوں کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا، جس نے عالمی سطح پر سیکیورٹی پروٹوکولز اور سربراہان مملکت کی حفاظت کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر ایک کیٹرنگ کنٹینر میں چھپایا گیا تھا تاکہ ان کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھا جا سکے۔ اس کے بعد انہیں ایک فوجی جیٹ تک پہنچایا گیا، جس کے ذریعے انہوں نے ملک سے خفیہ پرواز کی۔ یہ طریقہ کار ایک سربراہ مملکت کے لیے انتہائی غیر معمولی اور حیران کن ہے، جو عام طور پر سخت سیکیورٹی کے ساتھ کھلے عام سفر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ان دھمکیوں کی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے جن کا انہیں سامنا تھا۔
عام طور پر، عالمی رہنماؤں کی نقل و حرکت انتہائی منظم اور شفاف ہوتی ہے، لیکن اس واقعے نے سیکیورٹی پروٹوکول میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ یہ اقدام ممکنہ طور پر ان شدید سیکیورٹی خطرات کا نتیجہ تھا جن کا سامنا ٹرمپ کو ترکی میں قیام کے دوران تھا۔ اس واقعے نے بین الاقوامی میڈیا میں بھی کافی توجہ حاصل کی ہے اور اس پر بحث جاری ہے کہ ایک سابق امریکی صدر کو اس طرح کے خفیہ انخلا کی ضرورت کیوں پیش آئی۔





