نئی دہلی: بھارت کے سابق ریسلنگ فیڈریشن کے سربراہ کو جنسی ہراسانی اور جنسی تعلقات کے مطالبات کے سنگین الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک مقامی عدالت نے سنایا، جس کے بعد اس ہائی پروفائل کیس کا اختتام ہو گیا جس نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔
سابق سربراہ پر کئی خاتون پہلوانوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے انہیں نامناسب طریقے سے چھوا اور ان سے جنسی تعلقات کا مطالبہ کیا۔ ان الزامات نے بھارتی کھیلوں کی دنیا میں ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور ریسلنگ کمیونٹی کے اندر اور باہر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ متاثرین نے انصاف کے حصول کے لیے احتجاج بھی کیا تھا، جس سے یہ معاملہ قومی سطح پر زیر بحث آیا۔
عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالتی کارروائی کے دوران، استغاثہ الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں سابق سربراہ کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ ان کے لیے ایک بڑی راحت ہے، جبکہ متاثرین کے حامیوں اور انصاف کے متلاشی افراد میں مایوسی پھیل سکتی ہے۔

