وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں حکومتی نظام کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر موجودہ نظام عوام کو مطلوبہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو اس کا حل 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کا قیام یا ملک کو 15 نئے صوبوں میں تقسیم کرنا ہے۔ یہ بات انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
احسن اقبال نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتظامی ڈھانچہ بہت بڑا اور غیر مؤثر ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، بدین سے لے کر ملک کے آخری کونے تک، ہر علاقے میں مقامی سطح پر مضبوط اور بااختیار حکومتوں کی ضرورت ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد اور عوامی مسائل کا حل تیزی سے ممکن ہو سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہی بہتر حکمرانی کی ضمانت ہے۔
وزیر منصوبہ بندی کی یہ تجویز ملک میں انتظامی اصلاحات اور صوبائی تقسیم کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ مختلف علاقوں سے وقتاً فوقتاً اٹھتا رہا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے اور آئینی ترامیم درکار ہوں گی۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم روایتی سوچ سے ہٹ کر ایسے حل تلاش کریں جو ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔
