سعودی عرب نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 9.12 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کا اعلان کیا ہے، جو مملکت کی معیشت کے لیے ایک اہم مالیاتی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ خسارہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور عالمی اقتصادی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سہ ماہی کے دوران حکومتی آمدنی میں تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ شامل تھا، جو 185.1 ارب سعودی ریال تک پہنچا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تیل کی آمدنی اب بھی سعودی عرب کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اور حکومتی خزانے میں اس کا نمایاں حصہ رہا، تاہم اخراجات آمدنی سے زیادہ رہے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خسارہ سعودی عرب کے لیے اپنے مالیاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے اور تیل پر انحصار کم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ مملکت اپنے وژن 2030 کے تحت معیشت کو متنوع بنانے اور غیر تیل آمدنی کے ذرائع کو فروغ دینے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مالیاتی چیلنجز کا بہتر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

