سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی حکام نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حوثیوں نے سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس سے عام شہریوں کو نقصان پہنچا۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں جاری خانہ جنگی اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کی مداخلت کے باعث خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام چلنے والی خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ باغی سعودی عرب میں ایک “بڑے پیمانے پر” فوجی کارروائی کے بارے میں جلد ہی ایک تفصیلی بیان جاری کریں گے۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثی باغی اپنے حملوں کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ سعودی عرب کے اندرونی علاقوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ان کے اس دعوے نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ حملے یمن میں جاری تنازعے کی تازہ ترین کڑی ہیں، جہاں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ حوثی باغی اکثر سعودی عرب کے سرحدی شہروں اور تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں، جس کے جواب میں سعودی اتحاد بھی یمن کے اندر حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔

