لاہور: سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیل ڈیڈز کی عدم تکمیل کے باعث قومی خزانے کو 70 کروڑ روپے سے زائد کا بھاری نقصان پہنچا ہے۔ یہ انکشاف ایک حالیہ آڈٹ رپورٹ میں ہوا ہے جس کے مطابق 125 صنعتکاروں نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے باوجود اپنی سیل ڈیڈز کو مکمل نہیں کیا۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان صنعتکاروں نے اپنی صنعتی یونٹس کی تعمیر مکمل کر لی تھی اور انہیں متعلقہ حکام کی جانب سے کمپلیشن سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے زمین کی ملکیت کی حتمی منتقلی کے لیے ضروری سیل ڈیڈز کو مکمل کرنے میں غفلت برتی۔ اس صورتحال سے نہ صرف حکومت کو ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں اور ملکیت کے معاملات میں ابہام برقرار ہے۔
اس سنگین مالی بے ضابطگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے اس بڑے نقصان کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ معاملہ حکومتی اداروں کی کارکردگی اور شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ متعلقہ حکام سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں گے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔




