سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی 9 ادویات کو جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ قرار دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں ادویات کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور اس رپورٹ نے کینسر کے مریضوں اور ان کے لواحقین میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ لیبارٹری نے اپنی تفصیلی جانچ کے بعد ان ادویات کو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔
ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق، جانچ کی گئی کینسر کی بعض ادویات میں مطلوبہ فعال دوا (ایکٹو اِنگریڈینٹ) یا تو بالکل موجود نہیں تھی یا اس کی مقدار اتنی کم تھی کہ وہ علاج کے لیے غیر مؤثر ثابت ہوتی۔ فعال جزو کی عدم موجودگی یا کمی کا مطلب ہے کہ مریضوں کو دی جانے والی یہ ادویات ان کی بیماری پر کوئی اثر نہیں کریں گی، جس سے ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے اور جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
اس سنگین انکشاف کے بعد سندھ حکومت اور متعلقہ صحت کے اداروں پر فوری کارروائی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ ان جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ مزید برآں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کو بھی اپنے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ادویات کے معیار کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ادویات خریدتے وقت انتہائی احتیاط برتیں اور صرف مستند فارمیسیوں سے ہی ادویات حاصل کریں۔





