سوئٹزرلینڈ میں ووٹرز نے ایک اہم ریفرنڈم میں ملک کی آبادی کو 10 ملین تک محدود کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری نتائج کے مطابق، تقریباً 55 فیصد شرکاء نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا جس کا مقصد امیگریشن میں کمی کے ذریعے آبادی پر حد لگانا تھا۔ یہ فیصلہ ملک کی مستقبل کی امیگریشن پالیسی اور سماجی ڈھانچے کے لیے اہم اثرات کا حامل ہے۔
یہ تجویز دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جن کا مؤقف تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، خاص طور پر امیگریشن کی وجہ سے، ملک کے وسائل، بنیادی ڈھانچے اور ماحولیات پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان جماعتوں کا خیال تھا کہ آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے سے سوئٹزرلینڈ کی منفرد ثقافت اور معیار زندگی کو برقرار رکھا جا سکے گا۔
تاہم، ووٹرز نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچے کے لیے امیگریشن کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ تجویز کے مخالفین کا کہنا تھا کہ آبادی پر حد لگانے سے سوئٹزرلینڈ کی معیشت کو نقصان پہنچے گا، کیونکہ ملک کو مختلف شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی مؤقف تھا کہ یہ اقدام ملک کی بین الاقوامی ساکھ اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہوگا۔ ریفرنڈم کا یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ سوئس عوام ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امیگریشن کو ایک اہم عنصر سمجھتے ہیں۔


