اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سوڈان میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب الابیض شہر کے گرد و نواح میں تقریباً 5 لاکھ شہریوں کے بڑے پیمانے پر مظالم کا نشانہ بننے کے شدید خطرے سے متعلق انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے جاری کردہ ان انتباہات میں کہا گیا ہے کہ الابیض کے علاقے میں جاری تنازعہ کے باعث عام شہری براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں قتل و غارت گری، لوٹ مار اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر عالمی برادری کی گہری تشویش کا عکاس ہے۔
اس اجلاس کا مقصد سوڈان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینا، ذمہ داروں کا تعین کرنا اور متاثرین کے لیے بین الاقوامی تحفظ اور امداد کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات پر غور کرنا ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سوڈان میں انسانی بحران کو روکنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔







