سپریم کورٹ کے جج کے ریمارکس: “پنجاب میں لوگ اپنا دل گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں؟”

پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک اہم سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے پنجاب میں غیر قانونی گردوں کی تجارت پر تشویشناک ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 18 سے 20 لاکھ روپے میں باآسانی گردہ مل جاتا ہے، جو کہ انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت کے ایک وسیع نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔

جسٹس کاکڑ نے اس سنگین مسئلے کی جڑ کو غربت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی مجبوری اور مالی بدحالی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، جہاں غریب افراد کو زندہ رہنے کے لیے اپنے جسم کے اعضاء فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج کے یہ ریمارکس کہ “پنجاب کے لوگ اپنا دل گردہ ہاتھ میں لے کر کیوں گھومتے ہیں؟” اس خوف اور عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں جو اس غیر قانونی تجارت کے باعث معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ یہ صورتحال قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اور حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس انسانیت سوز کاروبار کو روکنے اور غریبوں کے استحصال کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اس معاملے پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید ٹھوس حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

  • Related Posts

    حکومت کا بڑا فیصلہ: پیٹرول 5.16 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 7.69 روپے فی لیٹر سستا

    اسلام آباد: حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن…

    قومی اسمبلی میں اچکزئی کا سہیل آفریدی کے ٹھکانے سے متعلق مطالبہ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے پیر کو ایوان میں مطالبہ کیا کہ سہیل آفریدی کے ٹھکانے سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں۔ خیبر…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔