سیاسی انتہا پسندی ایک ایسا رجحان ہے جو اکثر خود کو ہی نگل جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی سیاسی تحریک یا نظریہ اپنی انتہا پر پہنچتا ہے تو وہ اپنے ہی اندرونی تضادات اور نظریاتی سختی کی وجہ سے خود کو تباہ کرنے لگتا ہے۔ یہ عمل بظاہر غیر منطقی لگتا ہے، لیکن سیاسی تاریخ کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انتہا پسندی کی جڑ میں ہی خود کو ختم کرنے کا بیج موجود ہوتا ہے۔
اس کی سب سے نمایاں مثالیں فرانسیسی انقلاب اور بالشویک انقلاب میں ملتی ہیں۔ فرانسیسی انقلاب کے دوران، جس نے آزادی، مساوات اور بھائی چارے کا نعرہ بلند کیا تھا، ‘دہشت گردی کا دور’ (Reign of Terror) آیا۔ میکسیمیلیئن روبسپیئر جیسے انقلابی رہنماؤں نے اپنے ہی ساتھیوں اور ان تمام لوگوں کو گلیوٹین پر چڑھا دیا جو ان کے نظریاتی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ اسی طرح، روس میں بالشویک انقلاب کے بعد، جو محنت کش طبقے کی آزادی کا دعویدار تھا، جوزف اسٹالن کے دور میں ‘عظیم صفائی’ (Great Purge) کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں لاکھوں کمیونسٹ پارٹی کے ارکان اور عام شہریوں کو ‘نظریاتی دشمن’ قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
یہ خود کشی کا رجحان دراصل انتہا پسندی کی فطرت میں پنہاں ہے۔ انتہا پسند تحریکیں ایک خاص اور سخت نظریاتی فریم ورک پر قائم ہوتی ہیں، جہاں کسی بھی قسم کے اختلاف رائے یا نظریاتی انحراف کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ جب بیرونی دشمنوں کا مقابلہ ختم ہو جاتا ہے یا وہ کمزور پڑ جاتے ہیں، تو یہ تحریکیں اپنے اندرونی صفوں میں ‘غداروں’ اور ‘کمزور عقیدے’ والوں کی تلاش شروع کر دیتی ہیں۔ نظریاتی پاکیزگی کا یہ جنون انہیں اپنے ہی ارکان کو ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے، جس سے تحریک اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے اور بالآخر اپنی قوت کھو بیٹھتی ہے۔
عصری سیاست میں بھی اس رجحان کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں مختلف انتہا پسند گروہ اور جماعتیں، خواہ وہ کسی بھی نظریے سے تعلق رکھتی ہوں، اکثر اندرونی دھڑے بندیوں اور نظریاتی اختلافات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ انتہا پسندی، اپنی تمام تر شدت اور عزم کے باوجود، ایک پائیدار سیاسی ماڈل نہیں بن سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے تنوع اور اختلاف رائے سے ہی پھلتے پھولتے ہیں، جبکہ انتہا پسندی اس تنوع کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتی ہے، جس کا نتیجہ ہمیشہ خود تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔



