سیوٹا: ہسپانیہ کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں رواں ہفتے کے اوائل میں داخل ہونے والے ہزاروں تارکین وطن ہفتے کے روز مراکش واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان تارکین وطن نے یورپ تک پہنچنے کے اپنے خوابوں کو ترک کرتے ہوئے بھوک، تھکن اور مقامی آبادی کی جانب سے مخاصمت کو اپنی واپسی کی وجہ قرار دیا۔ یہ افراد، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہاں پہنچے تھے، اب مایوسی کے عالم میں واپس اپنے وطن کا رخ کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، واپس جانے والے کئی تارکین وطن نے بتایا کہ انہیں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور پیغامات کے ذریعے سیوٹا آنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ ان ویڈیوز میں بظاہر یورپ میں آسان رسائی اور بہتر زندگی کے جھوٹے وعدے دکھائے گئے تھے، جس نے ہزاروں افراد کو اس خطرناک سفر پر مجبور کیا۔ تاہم، سیوٹا پہنچنے کے بعد انہیں حقیقت کا سامنا کرنا پڑا جہاں انہیں نہ صرف شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ مقامی آبادی کی جانب سے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔
اس صورتحال کے پیش نظر، ہسپانوی حکام نے سیوٹا کی سرحد پر ایک نئی رکاوٹ کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بڑے پیمانے پر تارکین وطن کی آمد کو روکا جا سکے۔ یہ اقدام تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے اور سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہسپانیہ کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تارکین وطن کی واپسی اور نئی رکاوٹ کی تنصیب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یورپ پہنچنے کی امیدیں کس طرح تیزی سے دم توڑ رہی ہیں اور اس مسئلے کا حل کتنا پیچیدہ ہے۔





