اسلام آباد: پاکستان کی معروف قانون دان اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو سیکیورٹی روٹ کیس میں دس سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایک مقامی عدالت نے سنایا ہے اور اسے ملک کے سیاسی و قانونی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایمان مزاری، جو سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ہیں، اپنی والدہ کی طرح سیاسی اور سماجی معاملات میں فعال رہتی ہیں۔ وہ ایک جرات مند وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کے شوہر ہادی چٹھہ بھی پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور مختلف سماجی تحریکوں کا حصہ رہے ہیں۔ یہ کیس سیکیورٹی روٹ میں مبینہ مداخلت اور سرکاری امور میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق تھا، جس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) میں ہوئی۔
اس سزا کے بعد ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے قانونی ماہرین نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کیس کو پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کو اکثر قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے لیے ایک اہم مثال قائم کر سکتا ہے۔



