سابق پاکستانی کرکٹ کپتان شاہد آفریدی نے ملک میں سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ ادارے واقعی اتنے اچھے ہیں جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے، تو اقتدار میں موجود افراد اپنے بچوں کو ان سہولیات میں کیوں نہیں بھیجتے؟
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں شاہد آفریدی نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے حالیہ سانحے کا حوالہ دیا، جہاں 14 بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ انہوں نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود ان اداروں کی حالت زار کا جائزہ لیں اور اگر انہیں ان پر بھروسہ ہے تو اپنے بچوں کو بھی انہی ہسپتالوں اور سکولوں میں بھیجیں۔
شاہد آفریدی کے اس بیان نے پاکستان میں سرکاری شعبے کے صحت اور تعلیم کے نظام کی خامیوں اور حکمران طبقے اور عام عوام کے لیے دستیاب سہولیات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ ان کا یہ مطالبہ عوامی سہولیات کی بہتری اور حکمرانوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم بحث کا آغاز کر رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی نظر میں حکمران طبقہ عوامی اداروں پر کتنا اعتماد کرتا ہے۔

