پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ شیر افضل مروت، جنہیں حال ہی میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا، نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ دباؤ کے تحت حاصل کیا گیا تھا اور وہ رضاکارانہ نہیں تھا۔
شیر افضل مروت نے اپنے موقف میں کہا کہ علی امین گنڈا پور کو غیر آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور ان کی جگہ کسی اور کو وزیراعلیٰ بنانا غیر قانونی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ گنڈا پور کو ان کے عہدے پر بحال کیا جائے۔ اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی پارٹی کے خلاف سازش کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو کمزور کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور کے استعفے کے بعد خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کی تقرری عمل میں لائی گئی تھی، جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شیر افضل مروت کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کے بعد اب یہ معاملہ مزید قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے، اور صوبے کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ آنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی قیادت اس اقدام کو اپنی پارٹی کے خلاف جاری مبینہ سازشوں کا حصہ قرار دے رہی ہے۔


