اسلام آباد: دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاہم یہ عمل آپریشنل طور پر انتہائی مشکل ہے۔ یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے 11 جون 2026 کو اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ بہترین کوششوں کے باوجود، قید میں موجود پاکستانیوں کو ابھی تک رہا نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے صومالی ہم منصب سے رابطہ کیا اور پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے صومالی حکام کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا اور ان سے بھرپور تعاون کی درخواست کی۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ قزاقوں کے ساتھ مذاکرات اور دیگر آپریشنل چیلنجز کی وجہ سے یہ معاملہ پیچیدہ ہو گیا ہے، لیکن حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ترجمان نے یقین دلایا کہ متعلقہ حکام صومالیہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اس مسئلے کا جلد از جلد پرامن حل تلاش کیا جا سکے اور تمام پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی یقینی بنائی جا سکے۔



