پاکستان کی معروف اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے حال ہی میں ایک اہم مسئلے پر روشنی ڈالی ہے جس نے ان کے کیریئر اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے تصویری بنیاد پر آن لائن ہراسانی (image-based abuse) کے تباہ کن اثرات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے، جس نے انہیں ذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں سطحوں پر شدید نقصان پہنچایا۔
عائشہ عمر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں خواتین، بشمول عوامی شخصیات، آن لائن تصویری بنیاد پر ہراسانی کا شکار ہو رہی ہیں۔ یہ ہراسانی اکثر نجی تصاویر یا ویڈیوز کو رضامندی کے بغیر شیئر کرنے پر مشتمل ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کو شدید ذہنی دباؤ، شرمندگی، سماجی بدنامی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اداکارہ نے بتایا کہ کس طرح اس صورتحال نے ان کے کام اور عوامی امیج کو نقصان پہنچایا، جس سے ان کی ذہنی صحت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آن لائن دنیا میں خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا کتنا ضروری ہے۔ عائشہ عمر جیسی شخصیات کا کھل کر بات کرنا دوسروں کو بھی حوصلہ دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یہ وقت ہے کہ معاشرہ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھے اور اس کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ خواتین کو آن لائن ہراسانی سے بچایا جا سکے اور انہیں ایک محفوظ ڈیجیٹل جگہ فراہم کی جا سکے۔

