عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد فی اونس سونے کی قیمت 25 ڈالر کی کمی سے 4125 ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ گراوٹ عالمی اقتصادی اشاروں اور ڈالر کی قدر میں استحکام کا نتیجہ ہے۔
عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس کمی کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 2600 روپے کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 237,400 روپے پر دستیاب ہے۔ اسی طرح، دس گرام سونے کی قیمت بھی 2229 روپے کم ہو کر 203,633 روپے ہو گئی ہے۔ یہ کمی ان سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے جنہوں نے حال ہی میں سونے میں سرمایہ کاری کی تھی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ گراوٹ بنیادی طور پر امریکی ڈالر کی مضبوطی اور عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات سے منسلک ہے۔ سرمایہ کار اب محفوظ سرمایہ کاری کے بجائے زیادہ منافع بخش اثاثوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار عالمی اقتصادی صورتحال، افراط زر کے اعداد و شمار اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر رہے گا، تاہم فی الحال مزید کمی کا رجحان غالب نظر آتا ہے۔





