آج کل انتخابی معرکے اکثر ایک نئے اور غیر روایتی انداز میں لڑے جاتے ہیں۔ وہ دن گئے جب سیاستدان گھر گھر جا کر یا عوامی جلسوں میں گھنٹوں خطاب کر کے ووٹروں سے براہ راست رابطہ قائم کرتے تھے۔ اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے، جہاں بظاہر عجیب و غریب واقعات بھی انتخابی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں، جیسا کہ فریج اور کچرے کے ڈبے والے شخص کے درمیان مقابلہ۔ یہ محض ایک مثال ہے کہ کس طرح جدید سیاست میں توجہ حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
جدید انتخابی مہمات میں سیاستدان کسی حلقے میں چپکے سے داخل ہوتے ہیں، جہاں وہ اپنے مخصوص حامیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد گہرے سیاسی مباحثے یا عوامی مسائل پر طویل گفتگو کے بجائے سوشل میڈیا کے لیے ‘مواد’ تیار کرنا ہوتا ہے۔ ایک مختصر ویڈیو کلپ، چند تصاویر، اور ایک چمکدار بیان ہی ان کی مہم کا محور بن جاتا ہے، جس کے بعد وہ تیزی سے منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار انہیں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی قیمت عوامی نمائندگی کے معیار پر پڑتی ہے۔
اس طرزِ عمل نے انتخابی سیاست کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اب سیاستدانوں کی توجہ حقیقی عوامی مسائل کو حل کرنے یا پالیسیوں پر بحث کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ ‘وائرل’ ہونے اور سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کو بڑھانے پر مرکوز رہتی ہے۔ اس سے ووٹروں اور امیدواروں کے درمیان براہ راست تعلق کمزور پڑتا ہے اور انتخابی عمل کی سنجیدگی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں عوامی نمائندگی کا تصور بھی دھندلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے جو دنیا بھر کی جمہوریتوں میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔





