امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، سعودی عرب نے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف امریکہ کے فضائی حملوں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے ان پراکسی گروہوں کے خلاف کیے گئے ہیں جنہوں نے حال ہی میں امریکی اڈوں اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
عراق میں سرگرم یہ ملیشیائیں طویل عرصے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں، اور ان پر ایران کی حمایت کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب کی اس شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔






