اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ‘ایکٹ فار نیوٹریشن: وہ ہنگامی صورتحال جسے ہم مزید نظر انداز نہیں کر سکتے’ منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد پاکستان کو درپیش غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کے مستقل بحران پر قابو پانا ہے۔ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد سے زائد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر زچگی کے دوران اموات کی شرح 155 ہے۔ غذائی قلت کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 17 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے، جس کے باعث ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے: یا تو موجودہ راستے پر چلتے ہوئے پوری نسل کی صلاحیتوں کو ضائع کر دیا جائے، یا پھر ایک مختلف مستقبل کا انتخاب کیا جائے۔
اس دو روزہ کانفرنس میں پالیسی ساز، بین الاقوامی ترقیاتی رہنما، صحت کے ماہرین اور غذائی ماہرین اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے بحران کا سامنا کیا جا سکے اور فوری، مربوط کارروائی کے لیے تحریک پیدا کی جا سکے۔ بات چیت کا محور قومی سطح پر اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر ایسے عملی اور قابل پیمائش اقدامات کی طرف جانا ہے جو غذائی نتائج کو بہتر بنا سکیں اور پاکستان کے انسانی سرمائے اور آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھ سکیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے ڈین آف ریسرچ ڈاکٹر شجاعت فاروق نے اس موقع پر کہا کہ غذائی قلت کی معاشی لاگت “بہت زیادہ” ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 40 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 25 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے مزید کہا کہ اسکولوں میں زیر تعلیم 75 فیصد بچے غذائی قلت کی وجہ سے مؤثر طریقے سے سیکھنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ “غذائیت انسانی سرمائے کا ایک اہم حصہ ہے۔”






