غزہ شہر کے ہسپتالوں نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیل حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس حملے میں کم از کم پانچ بچے بھی شہید ہوئے ہیں، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
مقامی ذرائع اور طبی عملے کے مطابق، یہ حملہ بظاہر حماس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم اس کے نتیجے میں عام شہری، خصوصاً بچے، متاثر ہوئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں جاری کشیدگی کے دوران اس طرح کے واقعات میں بے گناہ جانوں کا ضیاع تشویشناک ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے کی تفصیلات اور ہلاکتوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم غزہ میں ہسپتالوں کے حکام نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر غزہ میں شہریوں کی سلامتی پر سوالات اٹھاتا ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔






