غزہ کی پٹی ایک سنگین طبی بحران کا شکار ہے جہاں سی ٹی سکین مشینوں کی شدید قلت نے ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کمی کے باعث مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج میں مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ان کی طبی حالت مزید بگڑ رہی ہے۔ یہ صورتحال غزہ کے پہلے سے ہی کمزور صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔
سی ٹی سکین جدید طبی تشخیص کا ایک اہم حصہ ہے جو اندرونی چوٹوں، ٹیومرز، فالج اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی درست شناخت کے لیے ناگزیر ہے۔ مشینوں کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹرز کو مریضوں کی حالت کا مکمل اندازہ لگانے میں دشواری پیش آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی مریضوں کی بیماریوں کی تشخیص میں تاخیر ہو رہی ہے اور ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کئی کیسز میں، بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے معمولی بیماریاں بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس صورتحال نے غزہ کے طبی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے اور مریضوں کے لواحقین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہیں اپنے پیاروں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جس دوران ان کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ اس انسانی بحران کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور مریضوں کو درکار طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔







