غزہ شہر میں 2023 کے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے 112 فلسطینیوں کا اجتماعی جنازہ ادا کیا گیا ہے۔ ان شہداء کی لاشیں، جو دو بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں، حال ہی میں غزہ شہر کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے سے نکالی گئی ہیں۔ یہ واقعہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور تنازعے کی سنگینی کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔
لاشوں کی بازیابی کا عمل طویل اور دشوار گزار رہا ہے، کیونکہ غزہ میں جاری شدید لڑائی اور وسیع پیمانے پر تباہی نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں پیدا کر رکھی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی باقیات کی شناخت کے بعد گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ان 112 افراد میں بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، جو گزشتہ سال کے حملوں میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔
اس اجتماعی جنازے میں سینکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی، جنہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور عالمی برادری سے غزہ میں جاری مظالم کو روکنے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ یہ دلخراش منظر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں کے دیرپا اور تباہ کن اثرات کی ایک اور مثال ہے، جہاں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔






