ایک مشترکہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو پر 71 ارب ڈالر کی خطیر رقم لاگت آئے گی۔ اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ تعمیر نو کے اس وسیع عمل میں فلسطینیوں کی شمولیت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ تخمینہ حالیہ تنازعے کے بعد سامنے آیا ہے جس نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، غزہ کی تعمیر نو پر آنے والی یہ لاگت ماضی کی تمام فوجی کارروائیوں کے مجموعی اخراجات سے سات گنا زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار غزہ میں ہونے والی تباہی کی شدت اور پیمانے کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں، جہاں ہزاروں عمارتیں، مکانات، ہسپتال اور تعلیمی ادارے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے کس قدر بڑے پیمانے پر وسائل اور کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تعمیر نو کے عمل کی کامیابی اور پائیداری کے لیے مقامی فلسطینی آبادی کی فعال شرکت اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینیوں کو اس عمل سے باہر رکھا گیا تو یہ کوششیں دیرپا نتائج پیدا نہیں کر سکیں گی۔ بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ عمل شفاف اور مؤثر طریقے سے انجام پائے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد مل سکے۔


