غزہ کی حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز سے اب تک بیرون ملک علاج کے لیے بھیجے گئے تقریباً 300 فلسطینی مریض انتقال کر چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں طبی انخلا میں ہولناک تاخیر اور ضروری علاج کی عدم دستیابی کا نتیجہ ہیں۔
ان مریضوں کی موت نے غزہ میں پہلے سے ہی تباہ حال صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابل بیان دکھ کا باعث بنی ہے۔ ایک متاثرہ خاندان کے فرد نے دل دہلا دینے والے الفاظ میں بتایا، ‘اس کی موت کے دو ہفتے بعد مجھے کال آئی کہ اب اسے علاج کے لیے منتقل کیا جا سکتا ہے۔’ یہ بیان ان تکلیف دہ تاخیر کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا غزہ کے مریضوں کو انخلا کے عمل میں کرنا پڑ رہا ہے۔
غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر، جہاں طبی سہولیات انتہائی محدود ہیں، بیرون ملک علاج کے لیے مریضوں کا بروقت انخلا زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی برادری اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے مریضوں کے لیے ایک ہموار اور تیز رفتار انخلا کا نظام قائم کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔


