امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت چاہے کسی بھی فارم (47 یا 48) کے ذریعے وجود میں آئی ہو، بات چیت اور معاملات اسی سے طے کرنے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں عام انتخابات 2024 کے نتائج پر شدید تحفظات اور تنازعات جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے زور دیا کہ جمہوری عمل میں اگرچہ انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھانا ایک جائز حق ہے، تاہم عملی سیاست میں موجودہ حکومتی ڈھانچے سے ہی رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی جماعتیں اور حلقے فارم 47 میں مبینہ رد و بدل اور انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی امور کو چلانے کے لیے ایک فعال حکومت سے مکالمہ ناگزیر ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام فریقین کو ایک میز پر آنا ہوگا۔ ان کے بقول، سیاسی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات کے باوجود، ریاستی امور چلانے والی اتھارٹی کے ساتھ تعمیری مکالمہ جاری رکھا جائے۔ یہ بیان ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے باوجود، مفاہمت اور عملیت پسندی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالا جا سکے۔



