فرانس میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے پرتشدد ہنگاموں اور لوٹ مار کو دہرانے سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ ان مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جس کے بعد ملک بھر میں جھڑپیں ہوئیں اور تقریباً 1,000 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق، ان مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں دیکھنے میں آئیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا اور سماجی انصاف کا مطالبہ کیا۔
گزشتہ ہفتے کے پرتشدد واقعات کے بعد، جس میں املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا، حکومت نے اس بار زیادہ محتاط رویہ اپنایا۔ اگرچہ حکام لوٹ مار اور بڑے پیمانے پر ہنگاموں کو روکنے میں کامیاب رہے، لیکن تقریباً 1,000 گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی بے چینی اب بھی عروج پر ہے۔ ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی برقرار ہے، اور آئندہ دنوں میں مزید مظاہروں کا امکان ہے۔


