پیرس: فرانسیسی حکام نے ملک میں حالیہ شدید فسادات کے بعد امن و امان کی صورتحال کو قابو میں لانے اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے بعض عوامی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ صدر ایمانوئل میکرون کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام “امن و سکون کی بحالی” کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب فرانس بھر میں ایک نوجوان کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر پرتشدد احتجاجی مظاہرے اور لوٹ مار کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ ان فسادات کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ کئی شہروں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس پابندی کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور مزید بدامنی کو پھیلنے سے روکنا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی صرف ان مظاہروں پر لاگو ہوگی جن سے امن عامہ میں خلل پڑنے یا تشدد بھڑکنے کا خدشہ ہو۔ صدر میکرون کی حکومت پر امن و امان کی بحالی کے لیے شدید دباؤ تھا، اور اس اقدام کو اسی دباؤ کے ردعمل اور ملک میں استحکام لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ فرانسیسی معاشرے میں آزادی اظہار اور عوامی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔





