پاکستانی گلوکار اور ریپر حسن رحیم نے حال ہی میں فن کی بے سرحدی پر زور دیتے ہوئے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں بھارتی نژاد گلوکار تلوارندر کے ساتھ اپنے اسٹیج پر ایک یادگار لمحے کو یاد کیا۔ ان کا یہ بیان فنکارانہ اظہار کی عالمگیریت اور جغرافیائی و ثقافتی حدود سے ماورا ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
حسن رحیم نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس لمحے کی ایک تصویر شیئر کی اور اس کے ساتھ لکھا کہ “فن کی کوئی سرحد نہیں ہے۔” یہ مشترکہ پیشکش دونوں فنکاروں کے درمیان ثقافتی اور جغرافیائی رکاوٹوں کو توڑ کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پرفارم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ٹورنٹو میں ان کی یہ مشترکہ کارکردگی دونوں ممالک کے شائقین کے لیے ایک خوشگوار تجربہ تھا، جس نے فن کے ذریعے اتحاد اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔
اس طرح کے بین الاقوامی تعاون فنکاروں کو نہ صرف نئے سامعین تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ مختلف ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ حسن رحیم اور تلوارندر جیسے فنکار اپنی موسیقی کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ فن واقعی ایک عالمگیر زبان ہے جو لوگوں کو جوڑتی ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہ واقعہ فنکاروں کے لیے ایک مثال قائم کرتا ہے کہ وہ کس طرح سرحدوں سے بالا تر ہو کر اپنے فن کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔



