ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ کے دوران سوشل میڈیا پر فٹبال کھلاڑیوں کے خلاف نسلی تعصب اور نفرت انگیز مواد کس طرح پھیلایا گیا۔ برطانیہ میں قائم ایک معروف تنظیم ’ہوپ ناٹ ہیٹ‘ نے اپنے تجزیے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ورلڈکپ کے دوران کی گئی تین لاکھ سے زائد پوسٹس کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اس تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں میں کھلاڑیوں کو کس طرح نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ نفرت انگیز مہمات کیسے منظم ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ورلڈکپ جیسے بڑے ایونٹس میں کھلاڑیوں کی کارکردگی یا کسی متنازعہ واقعے کے بعد انہیں فوری طور پر نسلی بنیادوں پر تنقید اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نسلی تعصب نہ صرف کھلاڑیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ کھیل کے عالمی بھائی چارے کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اپنی وسیع رسائی اور فوری ابلاغ کی صلاحیت کی وجہ سے، ایسے نفرت انگیز پیغامات کو تیزی سے پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جس سے ان پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔
’ہوپ ناٹ ہیٹ‘ کی یہ رپورٹ سوشل میڈیا کمپنیوں اور فٹبال کی عالمی تنظیموں جیسے فیفا کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ اس میں پلیٹ فارمز کو اپنی ماڈریشن پالیسیوں کو مزید سخت کرنے، مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نفرت انگیز مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے، اور نسلی تعصب پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے ایک محفوظ اور جامع ماحول کو یقینی بنانے کے لیے تعلیمی مہمات بھی ضروری ہیں تاکہ کھیل کی حقیقی روح کو برقرار رکھا جا سکے۔





